رَدیف ، قافیہ ، بندِش ، خیال ، لفظ گری

 Poetry  Comments Off on رَدیف ، قافیہ ، بندِش ، خیال ، لفظ گری
Dec 292016
 

رَدیف ، قافیہ ، بندِش ، خیال ، لفظ گری
وُہ حُور ، زینہ اُترتے ہُوئے سکھانے لگی

کتاب ، باب ، غزل ، شعر ، بیت ، لفظ ، حُروف
خفیف رَقص سے دِل پر اُبھارے, مست پری

کلام ، عَرُوض ، تغزل ، خیال ، ذوق ، جمال
بدن کے جام نے اَلفاظ کی صراحی بھری

سلیس ، شستہ ، مُرصع ، نفیس ، نرم ، رَواں
دَبا کے دانتوں میں آنچل ، غزل اُٹھائی گئی

قصیدہ ، شعر ، مسدس ، رُباعی ، نظم ، غزل
مہکتے ہونٹوں کی تفسیر ہے , بھلی سے بھلی

مجاز ، قید ، معمہ ، شبیہ ، اِستقبال
کسی سے آنکھ ملانے میں اَدبیات پڑھی

قرینہ ، سَرقہ ، اِشارہ ، کِنایہ ، رَمز ، سوال
حیا سے جھکتی نگاہوں میں جھانکتے تھے سبھی

بیان ، علمِ معانی ، فصاحت ، علمِ بلاغ
بیان کر نہیں سکتے کسی کی ایک ہنسی

قیاس ، قید ، تناسب ، شبیہ ، سَجع ، نظیر
کلی کو چوما تو جیسے کلی ، کلی سے ملی

ترنم ، عرض ، مکرر ، سنائیے ، اِرشاد
کسی نے ’’سنیے‘‘ کہا ، بزم جھوم جھوم گئی

حُضُور ، قبلہ ، جناب ، آپ ، دیکھیے ، صاحب
کسی کی شان میں گویا لغت بنائی گئی

حریر ، اَطلس و کمخواب ، پنکھڑی ، ریشم
کسی کے پھول سے تلووں سے شاہ مات سبھی

گلاب ، عنبر و ریحان ، موتیا ، لوبان
کسی کی زُلفِ معطر میں سب کی خوشبو ملی

کسی کے مرمریں آئینے میں نمایاں ہیں
گھٹا ، بہار ، دَھنک ، چاند ، پھول ، دیپ ، کلی

کسی کا غمزہ شرابوں سے چُور قوسِ قُزح
اَدا ، غُرُور ، جوانی ، سُرُور ، عِشوَہ گری

کسی کے شیریں لبوں سے اُدھار لیتے ہیں
مٹھاس ، شَہد ، رُطَب ، چینی ، قند ، مصری ڈَلی

کسی کے نور کو چندھیا کے دیکھیں حیرت سے
چراغ ، جگنو ، شرر ، آفتاب ، ’’پھول جھڑی‘‘

کسی کو چلتا ہُوا دیکھ لیں تو چلتے بنیں
غزال ، مورنی ، موجیں ، نُجُوم ، اَبر ، گھڑی

کسی کی مدھ بھری آنکھوں کے آگے کچھ بھی نہیں
تھکن ، شراب ، دَوا ، غم ، خُمارِ نیم شبی

کسی کے ساتھ نہاتے ہیں تیز بارِش میں
لباس ، گجرے ، اُفق ، آنکھ ، زُلف ، ہونٹ ، ہنسی

کسی کا بھیگا بدن ، گُل کھلاتا ہے اَکثر
گلاب ، رانی ، کنول ، یاسمین ، چمپا کلی

بشرطِ ’’فال‘‘ کسی خال پر میں واروں گا
چمن ، پہاڑ ، دَمن ، دَشت ، جھیل ، خشکی ، تری

یہ جام چھلکا کہ آنچل بہار کا ڈَھلکا
شریر ، شوشہ ، شرارہ ، شباب ، شر ، شوخی

کسی کی تُرش رُوئی کا سبب یہی تو نہیں؟
اَچار ، لیموں ، اَنار ، آم ، ٹاٹری ، اِملی

کسی کے حُسن کو بن مانگے باج دیتے ہیں
وَزیر ، میر ، سپاہی ، فقیہہ ، ذوقِ شہی

نگاہیں چار ہُوئیں ، وَقت ہوش کھو بیٹھا
صدی ، دَہائی ، برس ، ماہ ، روز ، آج ، اَبھی

وُہ غنچہ یکجا ہے چونکہ وَرائے فکر و خیال!
پلک نہ جھپکیں تو دِکھلاؤں پتّی پتّی اَبھی؟

سیاہ زُلف: گھٹا ، جال ، جادُو ، جنگ ، جلال
فُسُوں ، شباب ، شکارَن ، شراب ، رات گھنی

جبیں: چراغ ، مقدر ، کشادہ ، دُھوپ ، سَحَر
غُرُور ، قہر ، تعجب ، کمال ، نُور بھری

ظریف اَبرُو: غضب ، غمزہ ، غصہ ، غور ، غزل
گھمنڈ ، قوس ، قضا ، عشق ، طنز ، نیم سخی

پَلک: فسانہ ، شرارت ، حجاب ، تیر ، دُعا
تمنا ، نیند ، اِشارہ ، خمار ، سخت تھکی

نظر: غزال ، محبت ، نقاب ، جھیل ، اَجل
سُرُور ، عشق ، تقدس ، فریبِ اَمر و نہی

نفیس ناک: نزاکت ، صراط ، عدل ، بہار
جمیل ، سُتواں ، معطر ، لطیف ، خوشبو رَچی

گلابی گال: شَفَق ، سیب ، سرخی ، غازہ ، کنول
طلسم ، چاہ ، بھنور ، ناز ، شرم ، نرم گِری

دو لب: عقیق ، گُہر ، پنکھڑی ، شرابِ کُہن
لذیذ ، نرم ، ملائم ، شریر ، بھیگی کلی

نشیلی ٹھوڑی: تبسم ، ترازُو ، چاہِ ذَقن
خمیدہ ، خنداں ، خجستہ ، خمار ، پتلی گلی

گلا: صراحی ، نوا ، گیت ، سوز ، آہ ، اَثر
ترنگ ، چیخ ، ترنم ، ترانہ ، سُر کی لڑی

ہتھیلی: ریشمی ، نازُک ، مَلائی ، نرم ، لطیف
حسین ، مرمریں ، صندل ، سفید ، دُودھ دُھلی

کمر: خیال ، مٹکتی کلی ، لچکتا شباب
کمان ، ٹوٹتی اَنگڑائی ، حشر ، جان کنی

پری کے پاؤں: گلابی ، گداز ، رَقص پرست
تڑپتی مچھلیاں ، محرابِ لب ، تھرکتی کلی

جناب! دیکھا سراپا گلابِ مرمر کا!
اَبھی یہ شعر تھے ، شعروں میں چاند اُترا کبھی؟

غزل حُضُور بس اَپنے تلک ہی رَکھیے گا
وُہ رُوٹھ جائے گا مجھ سے جو اُس کی دُھوم مچی

جھکا کے نظریں کوئی بولا اِلتماسِ دُعا
اُٹھا کے ہاتھ وُہ خیراتِ حُسن دینے لگی

کشش سے حُسن کی چندا میں اُٹھے مد و جزر
کسی کو سانس چڑھا سب کی سانس پھول گئی

جو اُس پہ بوند گری ، اَبر کپکپا اُٹھا
اُس ایک لمحے میں کافی گھروں پہ بجلی گری

قیامت آ گئی خوشبو کی ، کلیاں چیخ پڑیں
گلاب بولا نہیں ، غالبا وُہ زُلف کھلی

طواف کرتی ہے معصومیت یوں کم سِن کا
کہ قتل کر دے عدالت میں بھی ، تو صاف بری!

بدن پہ حاشیہ لکھنا ، نگاہ پر تفسیر
مقلدین ہیں شوخی کے اَپنی شیخ کئی

تمام شہر میں سینہ بہ سینہ پھیل گئی
کسی کے بھیگے لبوں سے وَبائے تشنہ لبی

گلاب اور ایسا کہ تنہا بہار لے آئے
بہشت میں بھی ہے گنجان شوخ گُل کی گلی

 Posted by at 11:44 pm

بیٹیاں

 Poetry  Comments Off on بیٹیاں
Jan 012016
 

بیٹیاں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیں
ضبطِ کے زرد آنچل میں اپنے
سارے درد چُھپا لیتی ہیں
روتے روتے ہنس پڑتی ہیں
ہنستے ہنستے دل ہی دل ہی رو لیتی ہیں
خوشی کی خواہش کرتے کرتے
خواب اور خاک میں اَٹ جاتی ہیں
سو حصّوں میں بٹ جاتی ہیں
گھر کے دروازے پر بیٹھی
اُمیدوں کے ریشم بنتے ….ساری عُمر گنوا دیتی ہیں
میں جو گئے دنوں میں
ماں کی خوش فہمی پہ ہنس دیتی تھی
اب خود بھی تو
عُمر کی گرتی دیواروں سے ٹیک لگائے
فصل خوشی کی بوتی ہوں
اور خوش فہمی کا ٹ رہی ہوں
جانے کیسی رسم ہے یہ بھی
ماں کیوں بیٹی کو ورثے میں
اپنا مقدّر دے دیتی ہے

 Posted by at 7:52 am

ہم تو سمجھے تھے محبت کا پیمبر ہے

 Poetry  Comments Off on ہم تو سمجھے تھے محبت کا پیمبر ہے
Oct 122015
 

میں کہ پھر دشتِ رفاقت کا سفر کر آیا
کیا کہوں کتنی اذیّت سے گزر کر آیا
ہر کوئی ہم سے ملا عمرِ گریزاں کی طرح
وہ تو جس دل سے بھی گزرا وہیں گھر کر آیا
تم نے اک سنگ اُٹھایا میرے آئینے پر
اور ہر شخص کو میں آئینہ گر کر آیا
مجھ سے کیا پوچھتے ہو شہرِ وفا کیسا ہے
ایسے لگتا ہے صلیبوں سے اُتر کر آیا
صرف چہرے ہی اگر کرب کے آئینے ہیں
کیوں نہ میں دل کا لہو آنکھ میں بھر کر آیا
اب جو اس شہر کی تقدیر ہو، میں تو لوگو
درو دیوار پہ حسرت کی نظر کر آیا
ہم تو سمجھے تھے محبت کا پیمبر ہے فراز
اور وہ بے مہر بھی توہینِ ہنر کر آیا

احمد فراز

ساڈا چڑیاں دا چنبا

 Poetry  Comments Off on ساڈا چڑیاں دا چنبا
Oct 102015
 

ساڈا چڑیاں دا چنبا وے بابلا
گلیاں تان تیریاں بابل بھیڑیاں، میرا ہن ہویا پردیس
رکھ بابل گھر آپنا، دھی چلی بگانے دیس
ساڈا چڑیاں دا چنبا وے بابلا
اساں اُڈ جاناں، ،اساں اُڈ جاناں
بیٹھی جنج بُوہا مَل کے
ہوناں میں پردیسن پلکے
گھر دیاں کنجیاں سانبھ لے ماں
اساں اُڈ جاناں، اساں اُڈ جاناں
ساڈا چڑیاں دا چنبا
جتھے کھیڈے گُڈیاں پٹولے
جند اج اوسے گھر وِچ ڈولے
میرے درد سنے اج کون وے
اساں اُڈ جاناں، ،اساں اُڈ جاناں
ساڈا چڑیاں دا چنبا
امبڑی، بابل، ویر پئے تکدے
لِکھیاں نوں اوہ موڑ نہ سَکدے
ٹُٹ گئے سارے مان وے
اساں اُڈ جاناں، ،اساں اُڈ جاناں
ساڈا چڑیاں دا چنبا
بخش دے مائیں بتّی دھاراں
جاندی واری سلام گذاراں
تیرے قسمت دے نال میل وے
اساں اُڈ جاناں، ،اساں اُڈ جاناں
ساڈا چڑیاں دا چنبا

 Posted by at 12:52 am

ترک الفت اور پھر الفت

 Poetry  Comments Off on ترک الفت اور پھر الفت
Oct 022015
 

ترک الفت اور پھر الفت بھی اس بے مثل کی
میں بہک جاؤں گا واعظ تیرے بہکانے سے کیا
آگ میں اپنی جلا کر خاک کر ڈالا اسے
شمع، آخر دشمنی ایسی بھی پروانے سے کیا
چارہ سازو کیوں دوا کرتے ہو؟ مر جانے بھی دو
بزم ہو جائے گی سونی. میرے اٹھ جانے سے کیا
مے کشی لازم نہیں ہے بزم ساقی میں نصیر
کام جب آنکھوں سے چل جائے تو پیمانے کیا

 Posted by at 7:26 am

 Permalink  Poetry  Comments Off on
Sep 082015
 

11947667_1682148315349567_2444320332073500927_n

دور ایک گاؤں هے
ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺭ ﮔﺎﺅﮞ ﮬﮯ ﻣﯿﺮﺍ
ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﭙﻦ ﮐﮯ ﺟﮕﻨﻮ
ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﮔﮭﻨﮯ ﭘﯿﭙﻠﻮﮞ ﭘﺮ ﭼﻤﮑﺘﮯ ﮬﯿﮟ
ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺮﮮ ﺗﻮﺗﻠﮯ ﻟﻔﻆ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ
ﮐﺌﯽ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﻏﯿﺮ ﺁﺑﺎﺩ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ
ﭘﺮﺍﻧﯽ، ﺟﮭﮑﯽ، ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﺘﯽ ﮬﻮﺋﯽ
ﺳﯿﮍﮬﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﮍﮮ ﮬﯿﮟ
ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺧﻤﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻨﺠﺮ ﮔﮍﮮ ﮬﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺭ ﮔﺎﺅﮞ ﮬﮯ ﻣﯿﺮﺍ
ﺟﮩﺎﮞ ﺷﺎﻡ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯽ ﺗﺎﺭﯾﮑﯿﺎﮞ ﭘﮭﯿﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﯿﮟ
ﺁﭨﮯ ﮐﯽ ﭼﮑﯽ ﮐﯽ ﺗﮏ ﺗﮏ
ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﮈﺍﺭﯾﮟ
ﮐﮩﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﻮﺋﯽ
ﮔﮭﻨﭩﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ
ﺳﺒﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ
ﺳﯿﮧ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺟﮭﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺑﺘﯽ ﮬﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺭ ﮔﺎﺅﮞ ﮬﮯ ﻣﯿﺮﺍ
ﺟﮩﺎﮞ ﻻﻟﭩﯿﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﮬﻢ ﻟﺮﺯﺗﯽ ﮬﻮﺋﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ
ﺳﺒﻖ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﮯ
ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺭ ﮔﺎﺅﮞ ﮬﮯ ﻣﯿﺮﺍ
ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﭘﺮﭼﮭﺎﺋﯿﺎﮞ ﮬﯿﮟ
ﺍﺩﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺑﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ
ﮐﮭﯿﺖ، ﺍﺳﮑﻮﻝ، ﺟﻮﮨﮍ
ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﮭﺮﻣﭧ
ﭘﺮﺍﺳﺮﺍﺭ ﺗﻨﮩﺎﺋﯿﺎﮞ ﮬﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺭ ﮔﺎﺅﮞ ﮬﮯ ﻣﯿﺮﺍ
ﺟﮩﺎﮞ ﭼﺎﻧﺪ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ
ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﺧﻮﮞ ﺳﮯ
ﺳﻮﺋﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺁﻧﮕﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ
ﮬﻮﺍ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﯽ ﮬﮯ
ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺑﻼﺗﯽ ﮬﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﻧﮧ ﭘﺎ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﻮﭦ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ
ﻋﺎﺩﺕ ﮬﻮﺍ ﮐﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﻭﮨﯽ ﮬﮯ
ﮐﮧ ﻓﻄﺮﺕ ﮬﻮﺍ ﮐﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﻭﮬﯽ ﮬﮯ
ﻣﮕﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﻭﻧﺪ ﮈﺍﻻ ﮬﮯ
ﺷﮩﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﮭﯿﮍ ﻣﯿﮟ…..!!

 Posted by at 3:48 am

تم اب صرف میرے ھو

 Poetry  Comments Off on تم اب صرف میرے ھو
Sep 052015
 

سنو_______!!
جب تم نہیں تھے نا……محبت درد سی تھی
کبھی اس سے،،، کبھی اس سے
کبھی اس در،،، کبھی اس در
محبت خوار رھی ھے
______مگر
جب سے ملے ھو تم ….. محبت راس آئی ھے
تمھارے پاس آنے سے…..محبت پاس آئی ھے
میں کیوں کر یہ تم سے بولوں
مجھے تم سے محبت ھے
کہ تم تو تم نہیں ھو اب
کہ تم اب صرف میرے ھو
میرے ھر آج میں زندہ میرے ھر کل میں شامل ھو
ملے ھو جب سے تم مجھ کو تب سے اب تلک مجھ کو
صرف خود سے
فقط خود سے محبت ھے…..

 Posted by at 3:42 am

محبت

 Poetry  Comments Off on محبت
Sep 042015
 

خاک دل کا دیار کر ڈالا
پھر سے سینہ فگار کر ڈالا
اور کتنے دئیے جلاؤ گے؟
گھر کو تم نے مزار کرڈالا
پھر ہواؤں سے دوستی کرلی
پھر سے دل داغدار کر ڈالا
یہ محبت تھی خاص شے جس کا
تم نے تو کاروبار کر ڈالا
پھر سے دل ہاتھ سے گیا دیکھو
پھر محبت کا وار کر ڈالا
وہ جو بستی بسا کے بھول گیا
ہم نے تو اُس سے پیار کر ڈالا
دل کو پہلو میں لے کے پھرتا ہے
کہہ رہا تھا نثار کر ڈالا
تم نے فُرقت کے سارے لمحوں کو
زندگی میں شمار کر ڈالا
جو ہواؤں پہ پیر رکھتے تھے
خاک نے، خاکسار کر ڈالا
ہم نے خوشبو کی جستجو میں بتولؔ
کیوں مقدّر کو دار کر ڈالا
اب نہ آیا تو پھر بلا سے بتولؔ
ہم نے تو انتظار کر ڈالا
فاخرہ بتولؔ

 Posted by at 11:40 am

سائیاں

 Poetry  Comments Off on سائیاں
Sep 032015
 

سائیاں ذات ادھوری ہے
سائیاں بات ادھوری ہے
سائیاں رات ادھوری ہے
سائیاں مات ادھوری ہے
دشمن چوکنا ہے لیکن،
سائیاں گھات ادھوری ہے
سائیاں رنج ملال بہت
دیوانے بے حال بہت
قدم قدم پر جال بہت
پیار محبت کال بہت
اور اس عالم میں سائیاں
گزر گئے ہیں سال بہت
سائیاں ہر سو درد بہت
موسم موسم سرد بہت
رستہ رستہ گرد بہت
چہرہ چہرہ زرد بہت
اور ستم ڈھانے کی خاطر
تیرا اک اک فرد بہت
سائیاں تیرے شہر بہت
گلی گلی میں زہر بہت
خوف زدہ ہے دہر بہت
اس پہ تیرا قہر بہت
کالی راتیں اتنی کیوں
ہم کو اک ہی پہر بہت
سائیاں دل مجبور بہت
روح بھی چور و چور بہت
پیشانی بے نور بہت
اور لمحے مغرور بہت
ایسے مشکل عالم میں
تو بھی ہم سے دور بہت
سائیاں راہیں تنگ بہت
دل کم ہیں اور سنگ بہت
پھر بھی تیرے رنگ بہت
خلقت ساری دنگ بہت
سائیاں تم کو آتے ہے
بہلانے کے ڈھنگ بہت
سائیاں میرے تارے گم
رات کے چند سہارے گم
سارے جان سے پیارے گم،
آنکھیں گم نظارے گم
ریت میں آنسو ڈوب گئے
راکھ میں ہوئے شرارے گم
سائیاں رشتے ٹوٹ گئے
سائیاں اپنے چھوٹ گئے
سچ گئے اور جھوٹ گئے،
تیز مقدر پھوٹ گئے
جانے کیسے ڈاکو تھے
جو لوٹے ہوئوں کو لوٹ گئے
سائیاں تنہا شاموں میں
چنے گئے ہیں باموں میں
چاہت کے الزاموں میں
شامل ہوئے ہے غلاموں میں
اپنی ذات نہ ذاتوں میں
اپنا نام نہ ناموں میں
سائیاں ویرانی کے صدقے
اپنی یزدانی کے صدقے
جبر انسانی کے صدقے
لمبی زندانی کے صدقے
سائیاں میرے اچھے سائیاں
اپنی رحمانی کے صدقے
سائیاں میرے درد گھٹا
سائیاں میرے زخم بجھا
سائیاں میرے عیب مٹا
سائیاں کوئی نوید سنا
اتنے کالے موسم میں
سائیاں اپنا آپ دکھا

 

ﻣﯿﮟ ﻟﺠﭙﺎﻻﮞ ﺩﮮﻟﮍ ﻟﮕﯿﺎﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻮ ﻏﻢ ﭘﺮﮮ ﺭﮨﻨﺪﮮ

 Poetry  Comments Off on ﻣﯿﮟ ﻟﺠﭙﺎﻻﮞ ﺩﮮﻟﮍ ﻟﮕﯿﺎﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻮ ﻏﻢ ﭘﺮﮮ ﺭﮨﻨﺪﮮ
Sep 032015
 

ﻣﯿﮟ ﻟﺠﭙﺎﻻﮞ ﺩﮮﻟﮍ ﻟﮕﯿﺎﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻮ ﻏﻢ ﭘﺮﮮ ﺭﮨﻨﺪﮮ
ﻣﯿﺮﯼ ﺁﺳﺎﮞ ﺍﻣﯿﺪﺍﮞ ﺩﮮ ﺳﺪﺍ ﺑﻮﭨﮯ ﮨﺮﮮ ﺭﮨﻨﺪﮮ
ﺧﯿﺎﻝ ﯾﺎﺭ ﻭﭺ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺖ ﺭﮨﻨﺪﺍ ﺁﮞ ﺩﻧﮯ ﺭﺍﺗﯽ
ﻣﺮﮮ ﺩﻝ ﻭﭺ ﺳﺠﻦ ﻭﺳﺪﺍ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﯾﺪﮮ ﺗﮭﺮﮮ ﺭﮨﻨﺪﮮ
ﺩﻋﺎ ﻣﻨﮕﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﺳﻨﮕﯿﻮ ﮐﺘﮭﮯ ﻣﺮﺷﺪ ﻧﺎ ﺭﺱ ﺟﺎﻭﮮ
ﺟﻨﺎﮞ ﺩﮮ ﭘﯿﺮ ﺭﺱ ﺟﺎﻭﻧﺪﮮ ﺍﻭ ﺟﯿﻮﻧﺪﮮ ﻭﯼ ﻣﺮﮮ ﺭﮨﻨﺪﻧﮯ
ﺍﯾﮩﮧ ﭘﯿﻨﮉﺍ ﻋﺸﻖ ﺩﺍ ﺍﻭﮐﮭﺎ ﭨﺮﻧﮯ ﻧﺎﻝ ﻣﮑﻨﺎ ﻧﺌﯿﮟ
ﺍﻭ ﻣﻨﺰﻝ ﻧﻮﮞ ﻧﺌﯿﮟ ﭘﺎ ﺳﮑﺪﮮ ﺟﯿﮍﮮ ﺑﮯ ﮐﮯ ﺍﮌﮮ ﺭﮨﻨﺪﮮ
ﮐﺪﯼ ﻭﯼ ﻟﻮﮌ ﻧﺌﯿﮟ ﭘﯿﻨﺪﯼ ﻣﯿﻨﻮﮞ ﺩﺭ ﺩﺭ ﺗﮭﮯ ﺟﺎﻭﻥ ﺩﯼ
ﻣﯿﮟ ﻟﺠﭙﺎﻻﮞ ﺩﺍ ﻣﻨﮕﺘﺎﮞ ﺁﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﻠﮯ ﺑﮭﺮﮮ ﺭﮨﻨﺪﮮ
ﻧﯿﺎﺯﯼ ﻣﯿﻨﻮﮞ ﻏﻢ ﮐﺎﺩﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺴﺒﺖ ﮨﮯ ﻻﺛﺎﻧﯽ
ﮐﺴﮯ ﺩﮮ ﺭﮨﻦ ﺟﻮ ﺑﻦ ﮐﮯ ﻗﺴﻢ ﺭﺏ ﺩﯼ ﮐﮭﺮﮮ .ﮮﺪﻨﮨﺭ

 Posted by at 3:35 am